Saturday, August 10, 2024

Best Creation is Human, انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا

 


"انسان بہترین تخلیق ہے"

اسلام میں، انسانوں کو اللہ کی طرف سے عطا کی گئی متعدد منفرد صفات اور ذمہ داریوں کی وجہ سے بہترین مخلوق سمجھا جاتا ہے۔ قرآن نے انسانوں کی خصوصی حیثیت کو یہ بیان کرتے ہوئے اجاگر کیا ہے کہ اللہ نے بنی آدم کو عزت دی ہے اور انہیں اپنی بہت سی مخلوقات پر فوقیت دی ہے۔

1. عقل اور استدلال: انسانوں کے پاس عقل اور استدلال کی صلاحیت ہے، جو انہیں اپنے ارد گرد کی دنیا کو سمجھنے اور اس کی تعریف کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ یہ فکری صلاحیت انسانوں کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنی مذہبی ذمہ داریاں پوری کر سکیں اور اللہ کی نشانیوں کو پہچان سکیں۔

2. آزاد مرضی اور ذمہ داری: دوسری تخلیقات کے برعکس، انسانوں کے پاس آزاد مرضی ہے، جس سے وہ انتخاب اور فیصلے کر سکتے ہیں۔ یہ آزادی نیکی کی راہ پر چلنے اور غلط کاموں سے بچنے کی ذمہ داری کے ساتھ آتی ہے۔

3. روحانی صلاحیت: انسان عبادت، اعمال صالحہ اور اخلاقی طرز عمل کے ذریعے روحانی بلندیوں اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ روحانی سفر انسانوں کو دوسری تخلیقات سے ممتاز کرتا ہے۔

4. نائب کے طور پر کردار: انسانوں کو زمین پر نائبین (نمائندوں) کے طور پر مقرر کیا جاتا ہے، جنہیں سیارے اور اس کے وسائل کی دیکھ بھال اور انتظام کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ کردار اس اعتماد اور عزت کی نشاندہی کرتا ہے جو اللہ نے انسانوں میں رکھا ہے۔

5. ہمدردی اور ہمدردی کی صلاحیت: انسانوں میں دوسروں کے ساتھ ہمدردی، ہمدردی اور مہربانی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ خوبیاں ان اعلیٰ اخلاقی اور اخلاقی معیارات کی عکاسی کرتی ہیں جنہیں انسان حاصل کرنے کے قابل ہے۔

تاہم، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ یہ معزز درجہ اس توقع کے ساتھ آتا ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو عقلمندی اور اللہ کی ہدایت کے مطابق استعمال کریں گے۔ جب انسان اس راستے سے ہٹ کر اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے تو وہ دوسری مخلوقات کے درجے سے نیچے گر سکتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ انسانوں کو ان کی منفرد صفات، ذمہ داریوں اور روحانی نشوونما کی صلاحیت کی وجہ سے بہترین تخلیق سمجھا جاتا ہے۔ یہ حیثیت ایک اعزاز اور ذمہ داری دونوں ہے، جس کا تقاضا ہے کہ انسان راستبازی کے لیے کوشش کریں اور زمین پر اللہ کے نائب کے طور پر اپنا کردار ادا کریں۔


اس کی رنگت ایسی ہے، اس کا قد ایسا ہے، اس کی بناوٹ ایسی ہے، وہ سانولا ہے، وہ پست قد ہے، وہ موٹا ہے۔

جب بنانے والے نے فرمایا ہے:

لَقَدْ خَلَقْنَا الاَّنسَانَ فِی اَحْسَنَ تَقْوِیم ( سورة التين)

ترجمہ: یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں   پیدا کیا۔

الله تعالٰی نے تین قسمیں کھائی ہیں، پھر فرمایا ہے انسان بہترین ساخت میں  پیدا کیا گیا ہے۔ ہر انسان کا مصور وہ خالق رب ہے،  کسی کے اندر کوئی کمی ہو ہی نہیں سکتی۔

تو پھر میں اور  آپ کون ہوتے ہیں  کسی کو بدصورت کہنے والے؟

ہم شکل و صورت، بناوٹ، رنگت پر بات کرکے صرف طنز و مذاق نہیں کرتے بلکہ ہم الله تعالیٰ کی تخلیق پر سوال اٹھاتے ہیں۔

ہم صرف ظاہر کو ترجیح کیوں دیتے ہیں؟ 

جب کہ حدیث میں آتا ہے،

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:

«إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ».  

[صحيح مسلم: 2564]

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

”اللہ تمھارے جسموں اور تمھاری شکلوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمھارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے“۔  

کوشش کریں کہ اپنے باطن کو بھی خوبصورت بنائیں، صرف صورت ہی سب کچھ نہیں ہوتی، سیرت پر بھی توجہ دیں۔

 کسی پر منفی کمپلیمنٹ کرنے سے پہلے ایک بار دل کی گہراہیوں سے سوچیے گا ضرور!


His complexion is like that, his height is like that, his build is like that, he is skinny, he is short, he is fat.

When the Creator has said:

We have created mankind in good deeds (Surah al-Tain).

Translation: Indeed, We created man in the best form.

Allah Ta'ala has taken three oaths, then He has said that man has been created in the best form. The creator of every human being is the Lord, there can be no deficiency in anyone.

So who are you and me?

Calling someone ugly?

We don't just make jokes by talking about appearance, texture, color, but we question the creation of Allah Ta'ala.

Why do we prefer only the visible?

While in the hadith,

On the authority of Abu Hurairah, may God be pleased with him, he said: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said:

"Allah does not look at your faces and your possessions, but He looks at your hearts and deeds."

[Sahih Muslim: 2564]

There is a hadith on the authority of Abu Huraira, who says that the Messenger of Allah, may God bless him and grant him peace, said:

"Allah does not look at your bodies and your looks, but He looks at your hearts and actions."

Try to beautify your inner self as well, appearance alone is not everything, pay attention to character as well.

Before making a negative compliment on someone, think once from the depths of your heart!



پردہ آپ کا حق ہے, Hijab is your right

 


پردہ آپ کا حق ہے

زندگی کے جس حصے میں بھی توفیق ملے اسے اوڑھ لیں۔

مخالفت کا سامنا کرنا پڑے تو ڈٹ جائیں۔

طعنے سننے کو ملے تو سن لیں ۔

لیکن حیادار بننے کا جو فیصلہ آپ ایک دفعہ لے چکی ہیں اس سے پیچھے مت ہٹیں۔

کیونکہ پردہ ایک عورت کا وقار ،اس کی پہچان اور شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے

اور پھر رب کی خاطر جو نیکی بھی اختیار کی جاتی ہے اس میں لوگوں کی باتوں کے بجائے رب کے حصول کو ہدف بنا کر سب کچھ سہ لیا جاتا ہے۔

جب سب رب کی خاطر سہ لیا جائے تو  چیزیں آہستہ آہستہ ٹھیک بھی ہو جایا کرتی ہیں۔

اس لیے پردے کے انتخاب پر ثابت قدم رہیں

کیونکہ آپ کے رب کو پسند ہے کہ آپ چھپ کر رہیں۔


Purdah ( Hijab) is your right

Cover whatever part of life you get success in.

If you face opposition, stand firm.

If you want to hear insults, listen.

But don't go back from the decision you have once taken to become a Hayadar.

Because veil is a mirror of a woman's dignity, identity and personality.

And then the goodness that is done for the sake of the Lord is done with the aim of attaining the Lord instead of the words of the people.

When everything is done for the sake of the Lord, things gradually get better.

So be firm on the choice of Hijab.

Because your Lord likes you to be hidden.


ام الیقین"۔ "یقین سے بڑھ کر یقین", Believe, Trust, How to believe in Allah.


ہمیں نصیب نہیں بدلنا ہمیں اپنے یقین کو
"ام الیقین"۔  "یقین سے بڑھ کر یقین" بنانا ہے ۔ 
 نفرت کی سب نشانیاں ملنے کہ باوجود اللّٰہ پاک کی "محبت" پر یقین رکھنا ہے ۔ 
قہر کی سب علامتیں دکھائی دینے کے باوجود اللّٰہ پاک کے رحم پر "یقین" ہونا چاہیے ۔ 
اس بات پر "یقین" کہ ناممکن کو اللّٰہ پاک کے ممکن کرنے پر " یقین" ۔
 ہماری بیماری کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتی ساری دنیا کے کہنے کے باوجود " اُس کی شفا " پر یقین۔ جو زمین پر نہیں ہوتا وہ آسمان پر ہوتا ہے صرف ربّ العالمین کے حکم سے ہوتا ہے۔ 
اس شہادت پر "یقین" رکھنا ہے
 ان شآء اللّٰہ..... اللّٰہ تعالٰی عطا فرمائیں گے...!!


اگر اللہ نے آزمائش کے دوران اپنے بندوں کو اکیلا چھوڑنا ہوتا تو حضرت ہاجرہ کو تپتے ہوۓ ریگستان کے بیچ و بیچ پانی کیوں پلاتا ؟

 یقین کی ایک ڈور ٹوٹتی ہے، تو وہ تمہیں دوسری ڈور سے فورا جوڑ دیتا ہے۔ تم تھک کر رکتے ہو تو وہ چلنے کی ایک نئی وجہ دے دیتا ہے۔ وہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہتا ہے۔ 

آزمائش کے ساتھ بھی اور آزمائش کے بعد بھی۔ تمہاری دعائیں یہ اندھیری سُرنگ کے سِرے میں نظر آنے والی روشنی ہے۔ یہ وہ اُمید ہے جو انسان کو مایُوس نہیں ہونے دیتی۔ ایک مومن کا سب سے بڑا سہارا یہی دُعا ہی تو ہے۔ 
 اور پھر پُورا یقین رکھیں کہ جیسے یوسف علیہ السلام کے لیے مدد آئی تھی ویسے ہی میرے لیے بھی آۓ گی۔ ان شاء اللّٰہ !

وہ لوگ جو ہر چیز خوشی سے اللّٰه کو سونپ دیتے ہیں، وہ ممکنہ طور پر ہر چیز میں اللّٰه کا ساتھ پائیں گے۔ کیونکہ فکر وہاں ختم ہوتی ہے جہاں ایمان شروع ہوتا ہے۔وہ رب کبھی مکمل طور پر آزمائش میں مُبتلا نہیں کرتا کہیں نہ کہیں کوئی دَروازہ کُھلا ضرور رکھتا ہے۔ جہاں سے رحمت ٹھنڈی ہوا کے جُھونکوں کی طرح آ کر دِل کو پُرسکون کرتی رہتی ہے۔  کوئی نہ کوئی آسانی تو مشکل کے ساتھ موجود رہتی ہے .

Pak Tea House پاک ٹی ہاءوس

 


1940ء میں ایک سکھ بوٹا سنگھ نے "انڈیا ٹی ہاؤس" کے نام سے یہ چائے خانہ شروع کیا بوٹا سنگھ نے 1940ء سے 1944ء تک اس چائے خانہ و ہوٹل کو چلایا مگر اس کا کام کچھ اچھے طریقے سے نہ جم سکا۔ بوٹا سنگھ کے چائے خانہ پر دو سکھ بھائی سرتیج سنگھ بھلا اور کیسر سنگھ بھلا جو گورنمنٹ کالج کے سٹوڈنٹ تھے اپنے دوستوں کے ہمراہ اکثر چائے پینے آتے تھے۔ 1940ء میں یہ دونوں بھائی گورنمنٹ کالج سے گریجوایشن کر چکے تھے اور کسی کاروبا ر کے متعلق سوچ رہے تھے کہ ایک روز اس چائے خانہ پر بیٹھے، اس کے مالک بوٹا سنگھ سے بات چل نکلی اور بوٹا سنگھ نے یہ چائے خانہ ان کے حوالے کر دیا۔

پاک ٹی ہاؤس لاہور میں مال روڈ پر واقع ہے جو کہ انار کلی بازار اور نیلا گنبد کے قریب ھے۔ قیام پاکستان کے بعد حافظ رحیم بخش صاحب جالندھر سے ہجرت کر کے لاہور آۓ تو انہیں پاک ٹی ہاؤس 79 روپے ماہانہ کرایہ پر ملا۔ یہ چائے خانہ "انڈیا ٹی ہاؤس" کے نام سے ہی چلتا رہا بعد میں "انڈیا" کاٹ کر "پاک" کا لفظ لکھ دیا گیا۔

دبلا پتلا بدن، دراز قد، آنکھوں میں ذہانت کی چمک، سادہ لباس، کم سخن، حافظ رحیم بخش کو دیکھ کر دِلی و لکھنؤ کے قدیم وضعدار بزرگوں کی یاد تاذہ ہو جاتی۔ حافظ صاحب کے دو بڑے بیٹوں علیم الدین اور سراج الدین نے پاک ٹی ہاؤس کی گدی کو سنبھالا۔

لاھور کے گم گشتہ چاۓ خانوں میں سب سے مشہور چاۓ خانہ پاک ٹی ہاؤس تھا جو ایک ادبی، تہذیبی اور ثقافتی علامت تھا۔ پاک ٹی ہاؤس شاعروں، ادیبوں، نقاد کا مستقل اڈہ تھا جو ثقافتی، ادبی محافل کا انعقاد کرتی تھیں۔ پاک ٹی ہاؤس ادیبوں کا دوسرا گھر تھا اور کسی کو اس سے جدائی گوارا نہیں تھی وہ ٹی ہاؤس کے عروج کا زمانہ تھا۔

ان دنوں لاھور میں دو بڑی ادبی تنظیمیں، حلقہ ارباب ذوق اور انجمن ترقی پسند مصنفین ہوتی تھیں۔ صبح سے لیکر رات تک ادبی محفلیں جمی رہتی تھیں۔ یہاں ملک بھر سے نوجوان ان شخصیات سے ملاقات کرنے کیلۓ آتے تھے۔ اتوار کو ٹی ہاؤس میں تِل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی تھی۔ جو کوئی آتا کرسی نہ بھی ہوتی تو کسی دوست کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا۔ یہاں شعر و ادب پر بڑے شوق سے بحثیں ہوتی تھیں۔

ٹی ہاؤس میں بیٹھنے والے ادیبوں اور شاعروں میں سے سواۓ چند ایک کے باقی کسی کا بھی کوئی مستقل ذریعہ معاش نہیں تھا۔ کسی ادبی پرچے میں کوئی غزل، نظم یا کوئی افسانہ لکھ دیا تو پندرہ بیس روپے مل جاتے تھے لیکن کبھی کسی کے لب پر تنگی معاش کا شکوہ نہیں تھا۔ ایسا کبھی نہیں تھا کہ کسی دوست کی جیب خالی ہے تو وہ ٹی ہاؤس کی چاۓ اور سگریٹوں سے محروم رہے۔ جس کے پاس پیسے ہوتے تھے وہ نکال کے میز پر رکھ دیتا تھا۔ جس کی جیب خالی ہوتی علیم الدین صاحب اس کے ساتھ بڑی فراخ دلی سے پیش آتے تھے۔ اس وقت کے ادیبوں میں سے شاید ہی کوئی ادیب ہو جس نے پاک ٹی ہاؤس کی چاۓ کا ذائقہ نہ چکھا ہو۔

پاک ٹی ہاؤس کا بڑا دلکش ماحول ہوتا تھا۔ نائیلون والا چمکیلا فرش، چوکور سفید پتھر کی میزیں، دیوار پر لگی قائدآعظم کی تصویر، گیلری کو جاتی ہوئی سیڑھیاں، بازار کے رخ پر لگی شیشے دار لمبی کھڑکیاں جو گرمیوں کی شاموں کو کھول دی جاتی تھیں اور باہر لگے درخت بھی دکھائی دیتے تھے۔ دوپہر کو جب دھوپ پڑتی تو شیشوں سے گلابی روشنی اندر آتی تھی۔

ٹی ہاؤس کے اندر کونے والے کاؤنٹر پر علیم الدین کا مسکراتا ہوا سانولا چہرا ابھرتا اور بل کاٹتے وقت پیچھے کہیں دھیمے سروں میں ریڈیو بج رہا ہوتا تھا۔ علیم الدین کی دھیمی اور شگفتہ مسکراھٹ تھی۔ اس کے چمکیلے ہموار دانت موتیوں کی طرح چمکتے تھے ٹی ہاؤس کی فضا میں کیپسٹن سگریٹ اور سگار کا بل کھاتا ہوا دھواں گردش کرتا تھا۔ ٹی ہاؤس کی سنہری چاۓ، قہوہ اور فروٹ کیک کی خوشبو بھی دل کو لبھاتی تھی۔ کبھی کبھی کاؤنڑ پر رکھا ہوا ٹیلیفون یک دم بج اٹھتا تھا۔

ہجرت کر کے آنے والوں کو پاک ٹی ہاؤس نے اپنی گود میں پناہ دی۔ کسی نے کہا میں انبالے سے آیا ہوں میرا نام ناصر کاظمی ہے۔ کسی نے کہا میں گڑھ مکستر سے آیا ہوں میرا نام اشفاق احمد ہے۔ کسی نے کہا میرا نام ابن انشاء ہے اور میرا تعلق لاہور سے ہے۔

وہ بڑے چمکیلے اور روشن دن تھے۔ ادیبوں کا سارا دن ٹی ہاؤس میں گزرتا تھا۔ ذیادہ تر ادیبوں کا تخلیقی کام اسی زمانے میں انجام پایا تھا۔ ناصر کاظمی نے بہترین غزلیں اسی زمانے میں لکھیں۔ اشفاق احمد نے گڈریا اسی زمانے میں لکھا۔ شعر و ادب کا یہ تعلق پاک ٹی ہاؤس ہی سے شروع ہوا تھا۔

صبح آٹھ بجے پاک ٹی ہاؤس میں کم لوگ آتے تھے۔ ناصر کاظمی سگریٹ انگلیوں میں دباۓ، سگریٹ والا ہاتھ منہ کے ذرا قریب رکھے ٹی ہاؤس میں داخل ہوتا تھا اور اشفاق احمد سائیکل پر سوار پاک ٹی ہاؤس آتا تھا۔

پاک ٹی ہاؤس میں داخل ہوں تو دائیں جانب شیشے کی دیوار کے ساتھ ایک صوفہ لگا ھوا تھا۔ سامنے ایک لمبی میز تھی۔ میز کی تینوں جانب کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ ناصر کاظمی، انتظار حسین، سجاد باقر رضوی، پروفیسر سید سجاد رضوی، قیوم نظر، شہرت بخاری، انجم رومانی، امجد اسلام امجد، احمد مشتاق، مبارک احمد وغیرہ کی محفل شام کے وقت اسی میز پر لگتی تھی۔

اے حمید، انور جلال شمزہ، عباس احمد عباسی، ھیرو حبیب، سلو، شجاع، ڈاکٹر ضیاء وغیرہ قائد آظم کی تصویر کے نیچے جو لمبی میز اور صوفہ بچھا تھا، وہاں اپنی محفل سجاتے تھے۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی اور سید وقار عظیم بھی وقت نکال کر پاک ٹی ہاؤس آتے تھے۔ ھر مکتبہ فکر کے ادیب، شاعر، نقاد اور دانشور اپنی الگ محفل بھی سجاتے تھے۔

سعادت حسن منٹو، اے حمید، فیض احمد فیض، ابن انشاء، احمد فراز، منیر نیازی، میرا جی، کرشن چندر، کمال رضوی، ناصر کاظمی، پروفیسر سید سجاد رضوی، استاد امانت علی خان، ڈاکٹر محمد باقر، انتظار حسین، اشفاق احمد، قیوم نظر، شہرت بخاری، انجم رومانی، امجد اسلام امجد، احمد مشتاق، مبارک احمد، انورجلال شمزہ، عباس احمد عباسی، ہیرو حبیب، سلو، شجاع، ڈاکٹر ضیاء، ڈاکٹر عبادت بریلوی، سید وقار عظیم وغیرہ پاک ٹی ہاؤس کی جان تھے۔

ساحر لدھیانوی بھارت جا چکا تھا اور وہاں فلمی گیت لکھ کر اپنا نام امر کر رھا تھا۔ شاعر اور ادیب اپنے اپنے تخلیقی کاموں میں مگن تھے۔ ادب اپنے عروج پہ تھا اس زمانے کی لکھی ھوئی غزلیں، نظمیں، افسانے اور مضامین آج کے اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ اس زمانے کی بوئی ہوئی ذرخیز فصل کو ھم آج کاٹ رہے ہیں۔

پاک ٹی ہاؤس کئی نشیب و فراز سے گزرا اور کئی مرتبہ بند ہو کر خبروں کا موضوع بنتا رہا۔

عرصہ دراز تک اہل قلم کو اپنی آغوش میں پناہ دینے کے بعد 2000ء میں جب ٹی ہاؤس کے مالک نے اسے بند کرنے کا اعلان کیا تو ادبی حلقوں میں تشویس کی لہر دوڈ گئی اور اھلِ قلم نے باقاعدہ اس فیصلے کی مزاحمت کرنے کا اعلان کر دیا۔

دراصل ٹی ہاؤس کے مالک نے یہ بیان دیا تھا کہ "میرا ٹی ہاؤس میں گزارہ نہیں ہوتا میں کوئی دوسرا کاروبار کرنا چاہتا ہوں" ادبی تنظیموں نے مشترکہ بیان دیا کہ ٹی ہاؤس کو ٹائروں کی دکان بننے کی بجاۓ ادیبوں کی بیٹھک کے طور پر جاری رکھا جاۓ کیونکہ اس چاۓ خانے میں کرشن چندر سے لیکر سعادت حسن منٹو تک ادبی محفلیں جماتے رھے۔

ادیبوں اور شاعروں نے اس چاۓ خانے کی بندش کے خلاف مظاہرہ کیا اور یہ کیس عدالت میں بھی گیا اور بعض عالمی نشریاتی اداروں نے بھی احتجاج کیا۔ آخر کار 31 دسمبر 2000ء کو یہ دوبارہ کھل گیا اور اہل قلم یہاں دوبارہ بیٹھنے لگے لیکن 6 سال کے بعد مئ 2006ء میں یہ دوبارہ بند ہو گیا اس بار ادیبوں اور شاعروں کی طرف سے کوئی خاص احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔

اس طرح یہ تاریخی، ادبی اور ثقافتی ورثہ نصف صدی تک اہل قلم کی میزبانی کرنے کے بعد اپنے پیچھے علم و ادب کی دنیا کی کئ داستانیں چھوڑ گیا۔ اب اس کے بند شٹر اور اوپر لکھا ہوا بورڈ صرف ماضی کے ایک ادبی ورثہ کی یاد دلانے لگا۔

نگینہ بیکری، چوپال، شیزان اور عرب ہوٹل کی طرح یہ بھی ماضی کا حصہ بن گیا۔

پاک ٹی ہاؤس کی بحالی لاہور کے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کا ایک مسلسل درینہ مطالبہ تھا۔ پاک ٹی ہاؤس کا افتتاح 14 اگست کو کیا جانا تھا لیکن نہ ہو سکا۔ سیاسی وجوہات کی بنا پر افتتاح کی نئی تاریخ 6 ستمبر رکھی گئی لیکن بے سود۔ 20 اکتوبر 25 اکتوبر اور 25 دسمبر 2012ء کو کیے گئے وعدے بھی وفا نہ ہو سکے۔ پاک ٹی ہاؤس کی جدائی ختم ہوئی اور وصل کا وقت آ گیا۔ میاں نواز شریف نے بالآخر 23 مارچ کو پاک ٹی ہاؤس میں چائے پی کر اور اس کا افتتاح کر کے ادیبوں اور شاعروں کے لیے اس کے دروازے ایک بار پھر کھول دئیے۔

اے حمید ایک جگہ لکھتے ہیں کہ "میں اور اشفاق احمد دیر تک ٹی ہاوس میں بیٹھے گزرے زمانے کو، گزرے زمانے کے چہروں کو یاد کرتے رہے، کیسے کیسے لوگ تھے، کیسے کیسے چمکیلے چہرے تھے جو ادب کے آسمان پر ستارے بن کر چمکے اور پھر اپنے پیچھے روشنی کی لکیریں چھوڑ کر نظروں سے غائب ہو گئے۔ کبھی ٹی ہاوس کے کاؤنٹر پر رکھے گلدان میں نرگس اور گلاب کے پھول مہکا کرتے تھے۔ شیشوں میں سے ان پر سردیوں کی دھوپ پڑتی تو وہ بجلی کے بلب کی طرح روشن ہو جاتے۔ اب کاؤنٹر پر نہ گلدان ہے نہ گلدان کے پھول ہیں۔ صرف میں اور اشفاق احمد میز کے آمنے سامنے سر کو جھکاۓ بیٹھے پرانے دنوں کو یاد کر رہے ہیں۔ ایک دن آۓ گا کہ اس میز پر کوئی اور بیٹھا ہمیں یاد کر رہا ہو گا " ـــــــــــــــــــ

حیف صد حیف اے حمید تو پاک ٹی ہاؤس میں محفل جمانے کی حسرت لیے اگلے جہان روانہ ہو گئے لیکن ہم لوگ انہیں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔


Niqab, Hijabi dialogue, Hijabi girl dialogue, حجاب

 

👈✨پہلے تو تم کسی سے پردہ نہیں کرتی تھی؟ اب یہ ڈرامے بازی کیوں؟

🌸جواب: اللہ ہدایت دیتا ہے، جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے۔❤️

✨👈نقاب پہنتی ہو، تمہیں کون پسند کرے گا؟

🌸جواب: جو اللہ کو پسند کرے گا۔

👈✨اب شادی والے دن نقاب؟؟

🌸 جواب :کیوں شادی والے دن معافی مل جاتی ہے۔

👈✨تم پردہ کرتی ہو، اگر تمھارے شوہر کا دھیان کہیں اورچلا گیا تو؟

🌸 جواب: پردہ شوہر سے تھوڑی کرتی ہوں۔

✨👈اب اتنا بھی کیا پردہ کہ بندہ بھوت بن جائے؟

🌸 جواب:نقاب اتار کر چڑیل بننے سے بہتر ہے بندہ بھوت بن جائے۔

👈✨نقاب میں کیسے کھاؤں گی ۔؟؟

🌸جواب : منہ سے۔

✨👈تم نقاب میںice cream کھاؤ گی؟

🌸 جواب: کیوں؟؟ نقاب کو flu ہو جائے گا 

👈✨تم university کی topper ہو، تم نقابی ہو،؟؟

🌸 جواب:میں اپنا face cover کرتی ہوں، brain نہیں۔

✨👈اب تو نقاب اتار دو، picture اچھی نہیں آیے گی.

🌸 جواب :کیوں cemel پر بیٹھ کر سب محرم نظر آتے ہیں۔؟

👈✨نقاب میں گاڑی چلاؤ گی؟ لوگ کیا سوچیں گے؟

🌸جواب: اگر میں اتار دوں گی تو اللہ تعالیٰ کیا سوچیں گے؟

✨👈نقاب میں سیلفی کا کوئی فایدہ؟

🌸 جواب:کیوں کہ میں اپنی favorite ہوں.

👈✨یہاں تو نقاب اتار دو؟ یہاں تمہیں کون دیکھے گا؟

🌸 جواب: کیوں؟؟ یہاں اندھے آتے ہیں۔

✨👈نقاب اور عبایا میں swimming کرو گی ؟

🌸 جواب: کیوں نقاب کو پانی سے الرجی ہے.؟

👈✨نقاب پہن کر lab ورک کرو گی؟

جواب: کیوں نقاب دیکھ کر مشین error دے گی؟

✨👈ایک تو نقاب پہنتی ہو، اوپر سے horse ridingکرو گی؟

🌸جواب: کیوں؟؟ صحابیات گھوڑا نہیں چلاتی تھیں۔؟

Friday, August 9, 2024

The Crow and the Pitcher (In Urdu and English) کوا اور گھڑا

 کوا اور گھڑا

گرمی کے شدید دن میں ایک پیاسا کوا پانی کی تلاش میں تھا۔ کچھ دیر اِدھر اُدھر اُڑنے کے بعد آخر کار اُسے ایک گھڑا ملا جس کے نیچے تھوڑا سا پانی تھا۔ کوے نے اپنی چونچ سے پانی تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن وہ بہت کم تھا۔ اس نے گھڑے کو ٹپ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بہت بھاری تھا۔

چالاک کوے نے پھر ایک منصوبہ سوچا۔ وہ چھوٹے چھوٹے کنکر اٹھا کر گھڑے میں ڈالنے لگا۔ ہر کنکری کے ساتھ، پانی کی سطح تھوڑی زیادہ بڑھ گئی. کوا اس وقت تک کنکریاں گراتا رہا جب تک پانی اس کے پینے کے قابل نہ ہو گیا۔ اپنی پیاس بجھائی اور خوشی سے اڑ گیا۔

کہانی کا اخلاق:

• آسانی اور مسائل کو حل کرنا: مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور ذہانت کا استعمال کریں۔

• استقامت: کوشش کرتے رہیں اور آسانی سے ہمت نہ ہاریں۔

• وسائل کی مہارت: اپنے لیے دستیاب وسائل کا بہترین استعمال کریں۔



The Crow and the Pitcher

On a hot summer day, a thirsty crow was searching for water. After flying around for a while, he finally found a pitcher with a little water at the bottom. The crow tried to reach the water with his beak, but it was too low. He tried to tip the pitcher over, but it was too heavy.

The clever crow then thought of a plan. He started picking up small pebbles and dropping them into the pitcher. With each pebble, the water level rose a little higher. The crow continued dropping pebbles until the water was high enough for him to drink. He quenched his thirst and flew away happily.

Moral of the Story:

  • Ingenuity and problem-solving: Use your creativity and intelligence to solve problems.
  • Persistence: Keep trying and don’t give up easily.
  • Resourcefulness: Make the best use of the resources available to you.

 

The Goose That Laid the Golden Eggs, سونےکے انڈے دینے والاہنس

سونےکے انڈے دینے والاہنس

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کسان اور اس کی بیوی کے پاس ایک ہنس تھا جو ہر روز سونے کا انڈا دیتا تھا۔ وہ بہت خوش قسمت تھے کہ اس طرح کا ایک شاندار ہنس تھا اور جلد ہی کافی دولت مند بن گئے۔ تاہم، وہ لالچی اور بے صبر ہو گئے، اور تیزی سے زیادہ دولت کے خواہاں تھے۔

ایک دن، کسان نے اپنی بیوی سے کہا، "ہم ہر روز ایک سونے کا انڈا حاصل کرنے کا انتظار کیوں کریں؟ چلو ہنس کو کاٹتے ہیں اور ایک ساتھ تمام سنہری انڈے حاصل کرتے ہیں۔ اس کی بیوی نے اتفاق کیا، اور انہوں نے ہنس کو مار ڈالا۔ لیکن جب انہوں نے اسے کھولا تو ان کے اندر سونے کے انڈے نہیں ملے۔ انہوں نے اپنی روزمرہ کی دولت کے ذرائع کو تباہ کر دیا تھا اور ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔

کہانی کا اخلاق:

• لالچ نقصان کا باعث بن سکتا ہے: لالچی اور بے صبری کے نتیجے میں جو کچھ آپ کے پاس پہلے سے موجود ہے اسے آپ کھو سکتے ہیں۔

• جو کچھ آپ کے پاس ہے اس کی قدر کریں: آپ کے پاس جو نعمتیں ہیں ان کے لیے شکر گزار بنیں اور انھیں معمولی نہ سمجھیں۔

صبر: اچھی چیزیں ان لوگوں کو ملتی ہیں جو انتظار کرتے ہیں اور مستقل ترقی کی تعریف کرتے ہیں۔


The Goose That Laid the Golden Eggs

Once upon a time, a farmer and his wife had a goose that laid a golden egg every day. They were very lucky to have such a wonderful goose and soon became quite wealthy. However, they grew greedy and impatient, wanting more wealth faster.

One day, the farmer said to his wife, “Why should we wait to get one golden egg each day? Let’s cut open the goose and get all the golden eggs at once.” His wife agreed, and they killed the goose. But when they opened it, they found no golden eggs inside. They had destroyed the source of their daily wealth and were left with nothing.

Moral of the Story:

Greed can lead to loss: Being greedy and impatient can result in losing what you already have.

Appreciate what you have: Be grateful for the blessings you have and don’t take them for granted.

Patience: Good things come to those who wait and appreciate the steady progress.


چیونٹی اور ٹڈڈی، The Ant and the Grasshopper in Urdu

 چیونٹی اور ٹڈڈی

Image from byjus.com

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک محنتی چیونٹی تھی جو تمام گرمیوں میں سردیوں کی خوراک جمع کرنے میں گزار دیتی تھی۔ وہ انتھک محنت کرتی، اناج اکٹھا کرتی اور اپنے گھونسلے میں ذخیرہ کرتای دریں اثنا، ایک لاپرواہ ٹڈڈی نے اپنے دن گانے، ناچنے اور گرم موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے گزارے۔

ٹڈّی چیونٹی پر ہنسا اور کہا، "تم اتنی محنت کیوں کرتی ہو؟ اب کافی خوراک ہے۔ آؤ اور میرے ساتھ مزہ کرو!”

لیکن چیونٹی نے جواب دیا، "میں سردیوں کے لیے کھانا ذخیرہ کر رہی ہوں۔ تمہیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔‘‘

ٹڈڈی نے چیونٹی کے مشورے کو نظر انداز کیا اور کھیلنا جاری رکھا۔ جب سردیاں آیں تو ٹڈّی کے پاس خوراک نہیں  تھی اور وہ بھوکا رہتا تھا۔ وہ چیونٹی کے گھونسلے میں گیا اور کھانا مانگنے لگا۔

چیونٹی، جس کے پاس کافی مقدار میں کھانے کا ذخیرہ تھا، اس نے ٹڈڈی کے ساتھ کچھ شیئر کیا لیکن اسے مستقبل کے لیے محنت اور منصوبہ بندی کی اہمیت کی یاد دلائی۔

کہانی کا اخلاق:

• محنت اور تیاری: محنت کرنا اور مستقبل کے لیے تیاری کرنا ضروری ہے۔

• ذمہ داری: اپنے اعمال کی ذمہ داری لیں اور آگے کی منصوبہ بندی کریں۔

• دوسروں کی مدد کرنا: مہربان بنیں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں، بلکہ انہیں قیمتی سبق بھی سکھائیں۔


لومڑی اور انگور, The Fox and the Grapes in Urdu

 لومڑی اور انگور

گرمیوں کے ایک گرم دن، ایک لومڑی ایک باغ میں ٹہل رہی تھی۔ اسے انگوروں کا ایک گچھا نظر آیا جو انگور کی بیل سے لٹکا ہوا تھا۔ انگور پکے ہوئے اور رسیلے لگ رہے تھے اور انہیں دیکھ کر لومڑی کے منہ میں پانی آ گیا۔

لومڑی انگوروں کو پکڑنے کے لیے کود پڑی، لیکن وہ بہت اونچے تھے۔ اس نے بار بار کوشش کی مگر وہ ان تک نہ پہنچ سکا۔ آخر تھک ہار کر لومڑی نے ہار مان لی۔ چلتے چلتے وہ خود سے بڑبڑایا، ’’وہ انگور ویسے بھی کھٹے ہیں۔‘‘

کہانی کا اخلاق:

• جو کچھ آپ کے پاس نہیں ہے اسے حقیر سمجھنا آسان ہے: بعض اوقات، جب ہم کچھ حاصل نہیں کر پاتے، تو ہم دکھاوا کرتے ہیں کہ یہ پہلے سے حاصل کرنا قابل نہیں تھا۔

• ثابت قدمی: کوشش کرتے رہیں اور آسانی سے ہمت نہ ہاریں۔

• قبولیت: اپنی حدود کو قبول کرنا اور ان کے اندر کام کرنا سیکھیں۔

مجھے امید ہے کہ آپ نے اس افسانے کا لطف اٹھایا ہوگا! 

لڑکا اور بھیڑیا، The Boy Who Cried Wolf ( Story in Urdu)

 لڑکا اور بھیڑیا

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چرواہا لڑکا تھا جو ایک تاریک جنگل کے قریب پہاڑ کے دامن میں اپنی بھیڑ بکریاں چراتا تھا۔ یہ سارا دن اس کے لیے تنہا تھا، اس لیے اس نے کچھ کمپنی حاصل کرنے کا منصوبہ سوچا۔ وہ گاؤں کی طرف بھاگا اور پکارا، ’’بھیڑیا! بھیڑیا!” گاؤں والے لڑکے کی مدد اور بھیڑوں کو بچانے کے لیے بھاگے آئے۔ لیکن جب وہ پہنچے تو انہیں کوئی بھیڑیا نہیں ملا۔ ان کے غصے سے بھرے چہروں کو دیکھ کر لڑکا ہنس پڑا۔

"جب بھیڑیا نہ ہو تو 'بھیڑیا' مت روؤ!" انہوں نے اسے خبردار کیا.

لیکن لڑکا صرف مسکرایا اور اپنی بھیڑوں کے پاس واپس چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد، وہ بور ہو گیا اور پھر سے چال کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے پکارا، ’’بھیڑیا! بھیڑیا!” اور پھر، گاؤں والے اس کی مدد کے لیے آئے۔ ایک بار پھر، انہیں کوئی بھیڑیا نہیں ملا، اور وہ لڑکے کے اتنے شرارتی ہونے پر بہت ناراض ہوئے۔

بعد میں، ایک بھیڑیا واقعی جنگل سے نکلا اور بھیڑوں پر حملہ کرنے لگا۔ لڑکا چلاتا ہوا گاؤں کی طرف بھاگا، ’’بھیڑیا! بھیڑیا!” لیکن اس بار گاؤں والوں نے اس پر یقین نہیں کیا۔ کوئی بھی اس کی مدد کو نہ آیا اور بھیڑیے نے ریوڑ کو تباہ کر دیا۔

لڑکے نے اس دن ایک مشکل سبق سیکھا۔

کہانی کا اخلاق:

• ایمانداری: ہمیشہ سچ بولو۔ اگر آپ جھوٹ بولتے ہیں تو لوگ آپ پر یقین نہیں کریں گے جب آپ سچ بولیں گے۔

• اعتماد: اعتماد کمانا مشکل اور کھونا آسان ہے۔ قابل اعتماد اور قابل اعتماد بنیں۔

• نتائج: آپ کے اعمال کے نتائج ہوتے ہیں، اس لیے عمل کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں۔


شیر اور چوہا, The Lion and the Mouse in Urdu

 شیر اور چوہا

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل میں لیو نام کا ایک طاقتور شیر رہتا تھا۔ لیو جنگل کا بادشاہ تھا، اور تمام جانور اس کی عزت کرتے اور ڈرتے تھے۔ ایک دن، دل سے کھانے کے بعد، لیو نے ایک بڑے درخت کے نیچے جھپکی لینے کا فیصلہ کیا۔

جیسے ہی لیو سو رہا تھا، ممی نامی ایک چھوٹا سا چوہا کھانے کی تلاش میں ادھر سے بھاگا۔ ممی غلطی سے لیو کے پنجے پر بھاگی، اسے جگایا۔ شیر غصے سے دھاڑا اور اپنے بڑے پنجے سے چوہے کو پکڑ لیا۔

"تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری نیند میں خلل ڈالنے کی!" لیو کراہا۔ "میں تمہیں اس کے لیے کھاؤں گا!"

ممی نے خوف سے کانپتے ہوئے اپنی جان کی التجا کی۔ "براہ کرم، طاقتور لیو، مجھے بخش دو! اگر آپ مجھے جانے دیتے ہیں تو میں ایک دن آپ کی مدد کرنے کا وعدہ کرتا ہوں۔

لیو ایک چھوٹے سے چوہے کے طاقتور شیر کی مدد کرنے کے خیال پر ہنسا لیکن اس نے ممی کو جانے دینے کا فیصلہ کیا۔ "بہت اچھا، چھوٹا ماؤس۔ میں تمہاری جان بچا دوں گا۔ اب جاؤ، اور مجھے دوبارہ پریشان مت کرو۔"

دن گزر گئے، اور لیو اس واقعے کے بارے میں بھول گیا. ایک دن، جنگل میں گھومتے ہوئے، لیو شکاری کے جال میں پھنس گیا۔ اس نے خود کو آزاد کرنے کی جدوجہد کی، لیکن جتنا اس نے کوشش کی، جال اتنا ہی سخت ہوتا گیا۔ لیو مدد کے لیے گرجتا رہا لیکن کوئی بھی اس کی مدد کو نہیں آیا۔

ممی، جو قریب ہی تھی، لیو کی دھاڑیں سن کر مدد کے لیے دوڑی۔ اس نے شیر کو جال میں پھنسا ہوا دیکھا اور تیزی سے اپنے تیز دانتوں سے رسیوں کو پیسنا شروع کر دیا۔ کچھ وقت کے بعد، ممی ایک سوراخ بنانے میں کامیاب ہو گئیں جو لیو کے فرار ہونے کے لیے کافی تھا۔

لیو حیران اور شکر گزار تھا۔ "آپ کا شکریہ، ممی. تم نے میری جان بچائی۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک چھوٹا چوہا ایک طاقتور شیر کی مدد کر سکتا ہے۔

ممی نے مسکرا کر کہا، "چھوٹی سے چھوٹی مخلوق بھی بڑا فرق کر سکتی ہے۔ ہمیں کبھی بھی کسی کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔‘‘

کہانی سے سبق

1. مہربانی اور ہمدردی: ممی کی جان بچانے میں لیو کے احسان کا بدلہ اس وقت ادا کیا گیا جب اس نے اسے بچایا۔ مہربان اور ہمدرد ہونا غیر متوقع انعامات کا باعث بن سکتا ہے۔

2. دوسروں کو کبھی کم نہ سمجھیں: کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر ایک میں منفرد طاقتیں اور صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ ہمیں کسی کو اس کے سائز یا شکل کی بنیاد پر کبھی کم نہیں سمجھنا چاہیے۔

3. دوسروں کی مدد کرنا: خطرے کے باوجود لیو کی مدد کرنے کے لیے ممی کی رضامندی، ضرورت مند دوسروں کی مدد کرنے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ احسان کے اعمال مضبوط بندھن اور دوستی پیدا کر سکتے ہیں۔

4. تشکر: ممی کے تئیں لیو کا شکر گزار ہونا دوسروں سے ملنے والی مدد کے لیے شکر گزار ہونے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔



خرگوش اور کچھوا, Rabbit and a Tortoise Story for Kids

 خرگوش اور کچھوا

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک سرسبز و شاداب جنگل میں رفیع نام کا ایک تیز رفتار خرگوش اور تیمو نام کا ایک سست مگر مستحکم کچھوا رہتا تھا۔ رفیع اپنی تیز رفتاری کے لیے مشہور تھے اور وہ اس بات پر فخر کرنا پسند کرتے تھے کہ وہ کتنی تیزی سے دوڑ سکتے ہیں۔ دوسری طرف، ٹیمو، شائستہ تھا اور ہمیشہ کام کو درست کرنے میں اپنا وقت نکالتا تھا۔

ایک دھوپ والے دن، رفیع دوسرے جانوروں سے اپنی رفتار کے بارے میں شیخی مار رہا تھا۔ "میں جنگل کا تیز ترین جانور ہوں! کوئی بھی مجھے ریس میں ہرا نہیں سکتا،‘‘ اس نے فخریہ انداز میں اعلان کیا۔

تیمو، جو خاموشی سے کچھ پتوں کو چبا رہا تھا، نے رفیع کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔ "رفیع، میں سست ہو سکتا ہوں، لیکن مجھے یقین ہے کہ میں تمہیں ریس میں ہرا سکتا ہوں،" اس نے سکون سے کہا۔

دوسرے جانور حیران اور خوش ہوئے۔ ایک سست کچھوا جنگل کے تیز ترین خرگوش کو کیسے شکست دے سکتا ہے؟ لیکن رفیع نے اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے اس چیلنج کو قبول کیا۔ "ٹھیک ہے، ٹیمو. چلو کل صبح ریس لگائیں۔ ہم بلوط کے بڑے درخت سے شروع کریں گے اور دریا کے کنارے پر ختم کریں گے۔" رفیع نے مسکراتے ہوئے کہا۔

اگلی صبح تمام جانور ریس دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے۔ اُلو، جو جنگل کا سب سے عقلمند جانور تھا، کو ریفری کے لیے چنا گیا۔ "اپنے نمبروں پر، تیار ہو جاؤ، جاؤ!" اُلّو نے آواز دی، اور دوڑ شروع ہو گئی۔

رفیع تیزی سے بھاگتا ہوا ٹیمو کو بہت پیچھے چھوڑ گیا۔ وہ اتنی تیزی سے بھاگا کہ جلد ہی آدھے راستے پر پہنچ گیا۔ پراعتماد محسوس کرتے ہوئے، رفیع نے ایک سایہ دار درخت کے نیچے جھپکی لینے کا فیصلہ کیا۔ "میں تھوڑی دیر آرام کروں گا۔ ٹیمو بہت سست ہے، وہ کبھی نہیں پکڑے گا،" اس نے اپنے آپ سے سوچا۔

اس دوران، ٹیمو ایک ایک قدم، مسلسل آگے بڑھتا رہا۔ وہ باز نہیں آیا یا مشغول نہیں ہوا۔ وہ بس چلتا رہا، دوڑ ختم کرنے کا عزم۔

جیسے ہی تیمو دریا کے کنارے کے قریب پہنچا، دوسرے جانوروں نے اسے خوش کیا۔ شور نے رفیع کو جھپکی سے جگایا۔ اس نے چھلانگ لگائی اور تیمو کو ختم لائن کے قریب دیکھا۔ گھبرا کر رفیع جتنی تیزی سے ہو سکتا تھا دوڑتا رہا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ تیمو نے رفیع سے عین پہلے فنش لائن کراس کی۔

تیمو کے لیے جنگل خوشی سے گونج اٹھا۔ ہانپتے ہوئے رفیع کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ "مبارک ہو، ٹمو. آپ ریس فیئر اینڈ سکوائر جیت گئے،‘‘ رفیع نے عاجزی سے اعتراف کیا۔

تیمو مسکرایا اور کہا، "شکریہ، رفیع۔ یاد رکھیں، سست اور مستحکم ریس جیتتا ہے۔

اس دن سے رفیع نے زیادہ عاجز ہونا سیکھا اور پھر کبھی کسی کو کم نہیں سمجھا۔ اور ٹیمو جنگل میں ایک ہیرو بن گیا، جس نے سب کو استقامت اور عزم کی قدر سکھائی۔

اور اس طرح، خرگوش اور کچھوا اچھے دوست بن گئے، اور وہ خوشی خوشی زندگی گزارنے لگے۔

_____________________________________________

 یہاں کچھ قیمتی اسباق ہیں جو بچے خرگوش اور کچھوے کی کہانی سے سیکھ سکتے ہیں:

1. ثابت قدمی ادا کرتی ہے۔

تیمو، کچھوا، ہمیں سکھاتا ہے کہ ثابت قدمی اور عزم کامیابی کا باعث بن سکتا ہے۔ اگرچہ وہ سست تھا، وہ ثابت قدمی سے آگے بڑھتا رہا اور کبھی ہمت نہیں ہاری۔

2. عاجزی اہم ہے۔

رفیع، خرگوش، نے عاجزی کی اہمیت سیکھی۔ زیادہ پر اعتماد ہونا اور دوسروں کو کم سمجھنا غیر متوقع نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ عاجزی اور احترام کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔

3. سست اور مستحکم ریس جیتتا ہے۔

کہانی اس بات پر زور دیتی ہے کہ مسلسل کوشش اور صبر کامیابی کا باعث بن سکتا ہے۔ جلدی کرنا یا شارٹ کٹ لینا ہمیشہ بہترین طریقہ نہیں ہوسکتا ہے۔

4. دوسروں کو کبھی کم نہ سمجھیں۔

ہر ایک کی اپنی طاقت اور صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ دوسروں کو ان کی شکل یا رفتار کی بنیاد پر کم نہ سمجھیں۔ ٹیمو کی مستحکم رفتار اور عزم نے اسے ریس جیتنے میں مدد کی۔

5. اپنے مقصد پر مرکوز رہیں

تیمو اپنے مقصد پر مرکوز رہا اور اس میں مشغول نہیں ہوا۔ اپنے اہداف پر مرکوز اور پرعزم رہنا ان کو حاصل کرنے میں آپ کی مدد کر سکتا ہے، چاہے وہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔

6. غلطیوں سے سیکھیں۔

رفیع کی ریس کے دوران جھپکی لینے کی غلطی نے اسے ایک قیمتی سبق سکھایا۔ اپنی غلطیوں سے سیکھنا اور انہیں ترقی کے مواقع کے طور پر استعمال کرنا ضروری ہے۔

7. ٹیم ورک اور دوستی

مقابلے کے باوجود رفیع اور ٹیمو آخر میں اچھے دوست بن گئے۔ کہانی ٹیم ورک، دوستی اور ایک دوسرے کی حمایت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

یہ اسباق بچوں کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں استقامت، عاجزی، توجہ اور دوستی کی قدر کو سمجھنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ 


Kids Islamic Stories, Islamic Traditions story for Kids, علی اور آمنہ کی مہم جوئی: اسلامی روایات کی دریافت


علی اور آمنہ کی مہم جوئی: اسلامی روایات کی دریافت

ایک زمانے میں، پہاڑیوں کے درمیان واقع ایک چھوٹے سے گاؤں میں، علی اور آمنہ نام کے دو متجسس بہن بھائی رہتے تھے۔ وہ اپنے گاؤں کی تلاش اور نئی چیزیں سیکھنا پسند کرتے تھے۔ ایک دھوپ کی صبح، ان کے دادا بابا نے انہیں اپنے پاس بلایا۔

"آج، میں آپ کو اپنی خوبصورت اسلامی روایات کے بارے میں بتاؤں گا،" بابا نے گرم مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

اسلام کے پانچ ستون

بابا نے اسلام کے پانچ ستونوں کی وضاحت کرتے ہوئے شروعات کی، جو ایک مسلمان کے ایمان اور عمل کی بنیاد ہیں۔

1. شہادت (ایمان): پہلا ستون شہادت ہے، ایمان کا اعلان۔ ہمارا یقین ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور محمد (صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) اس کے نبی ہیں،‘‘ بابا نے وضاحت کی۔ علی اور آمنہ نے سکون کا احساس محسوس کرتے ہوئے اس کے بعد الفاظ دہرائے۔

2. نماز (نماز): "ہم دن میں پانچ بار اللہ سے جڑے رہنے کے لیے دعا کرتے ہیں،" بابا نے جاری رکھا۔ اس نے انہیں وضو کرنے کا طریقہ بتایا اور پھر مختصر نماز پڑھائی۔ بچوں نے ایک ساتھ نماز پڑھتے ہوئے سکون کا احساس محسوس کیا۔

3. زکوٰۃ (صدقہ): "ضرورت مندوں کو دینا بہت ضروری ہے،" بابا نے کہا۔ اس نے انہیں زکوٰۃ کے بارے میں بتایا، جو کہ اپنی بچت کا ایک حصہ غریبوں کی مدد کے لیے دینا ہے۔ علی اور آمنہ نے اپنے کچھ کھلونے مقامی یتیم خانے کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

4. صوم (روزہ): "رمضان کے مقدس مہینے میں، ہم طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں،" بابا نے وضاحت کی۔ اس نے انہیں بتایا کہ روزہ کس طرح بھوکے لوگوں کے لیے صبر اور ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ بچے بڑے ہونے پر ایک دن کے لیے روزہ رکھنے کی کوشش کرنے کے لیے پرجوش تھے۔

5. حج (زیارت): "ہر مسلمان جو قابل ہو اسے اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار مقدس شہر مکہ جانے کی کوشش کرنی چاہیے،" بابا نے کہا۔ انہیں خانہ کعبہ کی تصاویر دکھائیں اور مناسک حج کے بارے میں بتایا۔ علی اور آمنہ نے ایک دن اس خاص سفر پر جانے کا خواب دیکھا۔

عید تقریبات۔

بابا نے پھر انہیں دو بڑی اسلامی تعطیلات کے بارے میں بتایا: عید الفطر اور عید الاضحی۔

• عید الفطر: "یہ تہوار رمضان کے اختتام کی نشاندہی کرتا ہے،" بابا نے کہا۔ "ہم خصوصی دعاؤں، لذیذ کھانوں اور ایک دوسرے کو تحائف دے کر جشن مناتے ہیں۔" علی اور آمنہ کو پچھلی عید میں نئے کپڑے پہننے اور اپنے رشتہ داروں سے ملنے جانے کا مزہ یاد آیا۔

• عید الاضحی: "یہ تہوار اللہ کی فرمانبرداری کے طور پر اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے حضرت ابراہیم کی رضامندی کی یاد دلاتا ہے،" بابا نے وضاحت کی۔ "ہم ایک جانور کی قربانی کرتے ہیں اور گوشت خاندان، دوستوں اور غریبوں کے ساتھ بانٹتے ہیں۔" بچوں نے پچھلی عید الاضحیٰ میں اپنے والدین کی اپنے پڑوسیوں کو گوشت تقسیم کرنے میں مدد کرنے کو یاد کیا۔

خاندان اور برادری کی اہمیت

بابا نے اسلام میں خاندان اور برادری کی اہمیت پر زور دیا۔ "ہمیں ہمیشہ دوسروں کے لیے مہربان، احترام اور مددگار ہونا چاہیے،" انہوں نے کہا۔ علی اور آمنہ نے ہمیشہ ایک دوسرے اور اپنے دوستوں کا خیال رکھنے کا وعدہ کیا۔

جیسے ہی سورج غروب ہونے لگا، بابا نے نتیجہ اخذ کیا، "ہماری روایات صرف رسمیں نہیں ہیں۔ وہ ہمیں قیمتی سبق سکھاتے ہیں اور ہمیں اللہ اور ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں۔

علی اور آمنہ نے اپنے دادا کو گلے لگایا، ان کی کہانیوں اور حکمت کے لیے شکر گزار تھے۔ انہوں نے ایسی بھرپور اور خوبصورت روایت کا حصہ بننے پر فخر محسوس کیا۔

اور اس طرح، بہن بھائیوں نے اپنی مہم جوئی کو جاری رکھا، ہمیشہ ان کی اسلامی روایات کے بارے میں بابا سے سیکھے گئے اسباق کو یاد رکھا۔

_____________________________________________

The Stark Reality of Poverty: Beyond the Silver Screen (Urdu) غربت کی سخت حقیقت: سلور اسکرین سے آگے


غربت کو اکثر فلموں میں ایک خاص رومانویت یا ڈرامائی مزاج کے ساتھ دکھایا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ خوفناک اور کسی بھی گلیمر سے خالی ہے۔ غربت میں زندگی گزارنے کا درد اور جدوجہد گہرا اور کثیر جہتی ہے، جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتی ہے۔ اس بلاگ میں، ہم غربت کی تلخ حقیقتوں کو تلاش کریں گے اور اس کے اثرات کو واضح کرنے کے لیے حقیقی زندگی کی مثالیں فراہم کریں گے۔

غربت کی تلخ حقیقتیں۔

1. بنیادی ضروریات کی کمی: سنیما کی تصویر کے برعکس جہاں کردار اکثر معجزاتی حل تلاش کرتے ہیں، حقیقی زندگی کی غربت کا مطلب بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرنا ہے۔ غربت میں رہنے والے بہت سے لوگ صاف پانی، غذائیت سے بھرپور خوراک اور مناسب رہائش تک رسائی سے محروم ہیں۔ مثال کے طور پر، افریقہ کے کچھ حصوں میں، خاندان پانی لانے کے لیے روزانہ میلوں پیدل چلتے ہیں، جو اکثر آلودہ ہوتا ہے۔

2. صحت کے مسائل: غربت کا صحت کی خرابی سے گہرا تعلق ہے۔ غذائیت کی کمی، صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کی کمی، اور غیر صحت بخش حالات میں زندگی صحت کے بے شمار مسائل کا باعث بنتی ہے۔ ہندوستان میں لاکھوں بچے غذائی قلت کی وجہ سے رکی ہوئی نشوونما کا شکار ہیں۔ طبی سہولیات کی کمی کا مطلب یہ ہے کہ قابل علاج بیماریاں اکثر مہلک بن جاتی ہیں۔

3. تعلیمی رکاوٹیں: تعلیم کو اکثر غربت سے نکلنے کے راستے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن بہت سے لوگوں کے لیے یہ ایک ناقابل حصول خواب ہی رہتا ہے۔ غریب علاقوں کے بچے کام کرنے اور اپنے خاندانوں کی کفالت کے لیے اکثر اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں ثقافتی اصولوں اور معاشی مجبوریوں کی وجہ سے بہت سی لڑکیاں تعلیم سے محروم ہیں۔

4. نفسیاتی اثر: غربت میں رہنے کا مستقل تناؤ دماغی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ناامیدی، اضطراب اور افسردگی کے احساسات ان لوگوں میں عام ہیں جو اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ میں، مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ غربت ذہنی صحت کی خرابیوں کے لئے ایک اہم خطرہ عنصر ہے.

5. سماجی بدنامی: غربت اکثر سماجی بدنامی کے ساتھ آتی ہے جو افراد اور خاندانوں کو الگ تھلگ کر دیتی ہے۔ وہ اکثر پسماندہ رہتے ہیں اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، جس سے غربت کے چکر کو توڑنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ برازیل میں، favelas (کچی آبادیوں) کو اکثر بدنام کیا جاتا ہے، اور رہائشیوں کو زندگی کے مختلف پہلوؤں میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حقیقی زندگی کی مثالیں۔

سب صحارا افریقہ: سب صحارا افریقہ جیسے خطوں میں، لاکھوں لوگوں کے لیے انتہائی غربت روز مرہ کی حقیقت ہے۔ فیملیز یومیہ $1.90 سے بھی کم پر گزارہ کرتے ہیں، بنیادی سہولیات کے بغیر زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی کمی اور جاری تنازعات ان کی حالت زار کو بڑھا رہے ہیں۔

ہندوستان: سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہونے کے باوجود، ہندوستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت میں زندگی گزار رہا ہے۔ ممبئی جیسے شہروں میں کچی آبادیوں میں لاکھوں لوگ رہتے ہیں جو تنگ اور غیر صحت مند حالات میں رہتے ہیں۔ امیر اور غریب کے درمیان تفاوت سخت اور ہمیشہ سے موجود ہے۔

امریکہ: غربت صرف ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ نہیں ہے۔ ریاستہائے متحدہ میں، بہت سے خاندان غربت کی لکیر سے نیچے رہتے ہیں، رہائش، صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ COVID-19 وبائی مرض نے ان کمیونٹیز کی کمزوریوں کو مزید اجاگر کیا ہے۔

نتیجہ

غربت ایک پیچیدہ اور تکلیف دہ حقیقت ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ وہ رنگین، ڈرامائی جدوجہد نہیں ہے جسے اکثر فلموں میں پیش کیا جاتا ہے بلکہ بقا کے لیے ایک انتھک جنگ ہے۔ غربت کی اصل نوعیت اور اس کے اثرات کو سمجھ کر، ہم ایک زیادہ منصفانہ اور منصفانہ دنیا بنانے کی سمت کام کر سکتے ہیں۔

غربت کا دماغی صحت پر گہرا اثر پڑتا ہے، جو افراد کو مختلف طریقوں سے متاثر کرتا ہے۔ غور کرنے کے لیے کچھ اہم نکات یہ ہیں:

1. تناؤ اور اضطراب میں اضافہ

غربت میں رہنے کا مطلب اکثر مسلسل مالی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ یہ دائمی تناؤ کا باعث بن سکتا ہے، جو ذہنی صحت کے مسائل جیسے بے چینی اور ڈپریشن کے لیے ایک اہم خطرے کا عنصر ہے۔ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگ عام آبادی کے مقابلے میں زیادہ پریشانی، گھبراہٹ اور اضطراب کی شرح بتاتے ہیں۔

2. دماغی صحت کی خدمات تک محدود رسائی

مالی مجبوریوں، بیمہ کی کمی، یا چند صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والے علاقوں میں رہنے کی وجہ سے غربت میں رہنے والے افراد کو اکثر ذہنی صحت کی خدمات تک محدود رسائی حاصل ہوتی ہے۔ رسائی کی یہ کمی انہیں ضروری علاج اور مدد حاصل کرنے سے روک سکتی ہے، جس سے ان کی ذہنی صحت کے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔

3. بچوں پر اثرات

غربت میں پروان چڑھنے والے بچے خاص طور پر ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ زیادہ معاشی طور پر مستحکم گھرانوں کے مقابلے میں ان میں دماغی صحت کے حالات پیدا ہونے کا امکان دو سے تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ غربت میں رہنے کا تناؤ ان کی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے اور طویل مدتی نفسیاتی مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

4. سماجی تنہائی اور بدنما داغ

غربت اکثر سماجی بدنامی اور تنہائی کے ساتھ آتی ہے۔ غربت میں رہنے والے افراد اپنی مالی صورتحال کے بارے میں شرمندہ یا شرمندگی محسوس کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے سماجی انخلا اور سپورٹ نیٹ ورک کی کمی ہوتی ہے۔ یہ تنہائی افسردگی اور اضطراب کے احساسات میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔

5. غربت اور دماغی صحت کا چکر

غربت اور ذہنی صحت کے مسائل ایک شیطانی چکر پیدا کر سکتے ہیں۔ دماغی صحت کے مسائل افراد کے لیے روزگار تلاش کرنا اور اسے برقرار رکھنا مشکل بنا سکتے ہیں، جو مزید مالی عدم استحکام کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے برعکس، غربت میں رہنے کے تناؤ اور چیلنجز دماغی صحت کی حالت کو خراب کر سکتے ہیں۔

ہونے کا خطرہ اوسط آمدنی والوں کے مقابلے میں دوگنا ہوتا ہے۔

غربت کے ذہنی صحت پر اثرات سے نمٹنے کے لیے ایک کثیر جہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے، جس میں ذہنی صحت کی خدمات تک رسائی کو بہتر بنانا، مالی مدد فراہم کرنا، اور غربت اور ذہنی صحت کے مسائل دونوں سے جڑے بدنما داغ کو کم کرنا شامل ہے۔


بدشگونی میں پڑنے والا کون سی دعا پڑھے Which dua should be recited by a person falling in bad omen


بدشگونی میں پڑنے والا کون سی دعا پڑھے

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اپنے کسی کام سے بدفالی کی بنا پر رکا اس نے شرک کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے دریافت کیا اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اس کا کفارہ یہ دعا ہے: 

اَللّٰھُمَّ لَا خَیْرَ إِلَّا خَیْرُکَ وَ لَا طَیْرَ إِلَّا طَیْرُکَ وَ لَآ إِلٰہَ غَیْرُکَ

’’یا اللہ! تیری بھلائی کے علاوہ کوئی بھلائی نہیں۔ اور تیرے شگون کے علاوہ کوئی شگون نہیں۔ اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔

(مسند احمد: 2/ 220)

Thursday, August 8, 2024

14 اگست کی تقریر: پاکستان کا یوم آزادی( In Urdu) Speech on 14th August: Pakistan’s Independence Day



 14 اگست کی تقریر: پاکستان کا یوم آزادی

خواتین و حضرات،

السلام علیکم،

آج، ہم اپنی پیاری قوم، پاکستان کی تاریخ میں ایک انتہائی اہمیت کا دن منانے کے لیے یہاں جمع ہیں۔ 14 اگست 1947 اس دن کی نشان دہی کرتا ہے جب پاکستان نوآبادیاتی حکمرانی کے طوق سے آزاد ہوکر ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا۔ یہ دن کیلنڈر پر صرف ایک تاریخ نہیں ہے۔ یہ ہماری آزادی، ہماری شناخت اور ہمارے اتحاد کی علامت ہے۔ آج جب ہم یہاں کھڑے ہیں، آئیے یوم آزادی کی اہمیت پر غور کریں اور بحیثیت پاکستانی اس کا ہمارے لیے کیا مطلب ہے۔

آزادی کی جدوجہد

آزادی کا سفر آسان نہیں تھا۔ یہ ایک ایسی جدوجہد تھی جو کئی دہائیوں پر محیط تھی، جس میں قربانیوں، استقامت اور اٹل عزم کا نشان تھا۔ تحریک آزادی کے قائدین بشمول عظیم قائداعظم محمد علی جناح نے ایک علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا جہاں مسلمان آزادی سے رہ سکیں، اپنے مذہب پر عمل کرسکیں اور اپنے ثقافتی ورثے کو محفوظ کرسکیں۔ پاکستان کا مطالبہ محض سیاسی خواہش نہیں تھی۔ یہ انصاف، مساوات اور خود ارادیت کی تلاش تھی۔

14 اگست کی اہمیت

یوم آزادی ان لاتعداد افراد کی قربانیوں کی یاددہانی ہے جنہوں نے آزادی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ ان کی یاد کو عزت دینے اور ان کے قرض کو تسلیم کرنے کا دن ہے۔ اس دن کی اہمیت ایک خواب کی تعبیر میں مضمر ہے — ایک ایسی قوم کا خواب جہاں ہم اپنی تقدیر سنانے کے لیے آزاد ہوں، جہاں ہماری آواز سنی جائے اور جہاں ہمارے حقوق کا تحفظ ہو۔

وحدت اور تنوع

پاکستان کا سب سے نمایاں پہلو اس کا تنوع ہے۔ شمال کی برف پوش چوٹیوں سے لے کر جنوب کے وسیع صحراؤں تک، ہلچل سے بھرے شہروں سے لے کر پرسکون دیہاتوں تک، پاکستان متنوع ثقافتوں، زبانوں اور روایات کی سرزمین ہے۔ یوم آزادی اس تنوع کا جشن ہے۔ یہ تسلیم کرنے کا دن ہے کہ ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے۔ اپنے اختلافات کے باوجود، ہم بطور پاکستانی ایک مشترکہ شناخت کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔

ترقی اور ترقی

آزادی حاصل کرنے کے بعد سے پاکستان نے مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی سے لے کر کھیلوں اور فنون میں کامیابیوں تک، پاکستان نے دنیا کو اپنی صلاحیت دکھائی ہے۔ یوم آزادی ہماری ترقی پر غور کرنے اور اپنی قوم کی ترقی کے لیے اپنے عزم کی تجدید کا ایک موقع ہے۔ یہ نئے اہداف طے کرنے اور اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے کام کرنے کا دن ہے۔

چیلنجز اور لچک

جب ہم اپنی کامیابیوں کا جشن مناتے ہیں، تو ہمیں ان چیلنجوں کو بھی تسلیم کرنا چاہیے جو آگے ہیں۔ پاکستان کو بھی دیگر ممالک کی طرح مشکلات کا سامنا ہے۔ اقتصادی چیلنجوں سے لے کر سماجی مسائل تک، سیکورٹی خدشات سے لے کر ماحولیاتی خطرات تک، ہمارے لیے اپنا کام ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم، لچک کا جذبہ جس نے ہمیں آزادی دلائی وہ ہماری رہنمائی کر رہی ہے۔ یوم آزادی ایک یاد دہانی ہے کہ جب تک ہم متحد ہیں اور مل کر کام کرتے ہیں تو ہم کسی بھی رکاوٹ کو عبور کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

حب الوطنی اور ذمہ داری

حب الوطنی صرف پرچم لہرانے یا قومی ترانہ گانا نہیں ہے۔ یہ ہمارے اعمال کی ذمہ داری لینے اور ہمارے معاشرے کی بہتری میں حصہ ڈالنے کے بارے میں ہے۔ یوم آزادی ہر پاکستانی کے لیے ایک دعوت ہے۔ یہ ایک شہری کی حیثیت سے اپنے کردار پر غور کرنے اور اپنے آپ سے پوچھنے کا دن ہے کہ ہم اپنی قوم کی ترقی میں کس طرح اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ چاہے یہ تعلیم کے ذریعے ہو، کمیونٹی کی خدمت کے ذریعے، یا محض ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک، ہر عمل کا شمار ہوتا ہے۔

نوجوانوں کا کردار

پاکستان کے نوجوان ہمارے مستقبل کے مشعل راہ ہیں۔ وہی ہیں جو ہماری قوم کی تقدیر سنواریں گے۔ یوم آزادی ہماری نوجوان نسل کو تحریک دینے کا دن ہے۔ یہ ان کے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو یاد دلانے اور ان میں فخر اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کا دن ہے۔ پاکستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے، اور یہ ہمارا فرض ہے کہ انہیں علم، ہنر اور اقدار سے آراستہ کریں جس کی انہیں ہماری قوم کو عظمت کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے۔

نتیجہ

آخر میں، یوم آزادی صرف ایک جشن نہیں ہے۔ یہ ہمارے ماضی کا عکس ہے، ہمارے حال کی پہچان ہے، اور ہمارے مستقبل کے لیے ایک وژن ہے۔ یہ ان لوگوں کی قربانیوں کا احترام کرنے کا دن ہے جنہوں نے ہماری آزادی کے لیے جدوجہد کی، ہماری کامیابیوں کا جشن منایا، اور ہماری قوم کی ترقی  کے لیے اپنے عزم کی تجدید کی۔ جب ہم اپنا قومی پرچم لہراتے ہیں اور اپنا قومی ترانہ گاتے ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آزادی کا اصل جوہر ہمارے اتحاد، ہماری لچک اور پاکستان سے ہماری اٹوٹ محبت میں مضمر ہے۔

اللہ پاکستان کو امن، خوشحالی اور ترقی عطا فرمائے۔ پاکستان زندہ باد!


پاکستان کی آزادی کی تحریک میں کئی اہم واقعات رونما ہوئے جنہوں نے ملک کی تقدیر کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہاں کچھ اہم ترین واقعات ہیں:

1. آل انڈیا مسلم لیگ کی تشکیل (1906): آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام ڈھاکہ میں برطانوی ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی مفادات کی نمائندگی کے لیے کیا گیا تھا۔ یہ تنظیم الگ مسلم ریاست کے مطالبے کے پیچھے محرک بنی۔

2. جلیانوالہ باغ قتل عام (1919): امرتسر میں یہ المناک واقعہ، جہاں برطانوی فوجیوں نے سینکڑوں نہتے ہندوستانی شہریوں کو قتل کیا، آزادی کے مطالبے کو تیز کیا اور ایک علیحدہ مسلم وطن کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

3. قرارداد لاہور (1940): قرارداد پاکستان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یہ 23 مارچ 1940 کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کے دوران منظور کیا گیا تھا۔ اس قرارداد میں ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی علاقوں میں مسلمانوں کے لیے 'آزاد ریاستوں' کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

4. ڈائریکٹ ایکشن ڈے (1946): 16 اگست 1946 کو مسلم لیگ نے پاکستان بنانے کا مطالبہ کرنے کے لیے ڈائریکٹ ایکشن ڈے کا مطالبہ کیا۔ اس دن نے تقسیم کی عجلت کو اجاگر کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات کو جنم دیا۔

5. ماؤنٹ بیٹن پلان (1947): ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی طرف سے تجویز کردہ منصوبہ نے برطانوی ہندوستان کی دو آزاد ریاستوں، ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم کا خاکہ پیش کیا۔ اس منصوبے کو کانگریس اور مسلم لیگ دونوں نے قبول کر لیا۔

6. آزادی اور تقسیم (1947): 14 اگست 1947 کو، پاکستان کو ایک آزاد ریاست قرار دیا گیا، جو برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے خاتمے کی علامت ہے۔ تقسیم کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہجرتیں اور فرقہ وارانہ تشدد ہوا، لیکن اس نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا خواب بھی پورا کیا۔

ان واقعات نے اجتماعی طور پر پاکستان کی تخلیق میں اہم کردار ادا کیا اور ان کی تاریخی اہمیت اور برصغیر پر ان کے گہرے اثرات کے لیے یاد رکھا جاتا ہے۔

صفر کا مہینہ اور عوام کے غلط خیالات و توہمات, The month of Safar and the wrong ideas and superstitions of the people

سلسلہ نصیحت و اصلاح
مرتب:- مفتی محمد حسن
صفر کا مہینہ اور عوام کے غلط خیالات و توہمات۔

صفر کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔
صفر کے مہینہ سے مراد وہ مہینہ ہے جو محرّم الحرام کے بعد آتا ہے جس کو صفر المظفر اور صفر الخیر بھی کہتے ہیں، چونکہ کمزور عقیدہ لوگ اس مہینہ کو منحوس سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس مہینے میں آفات اور حوادث ومصائب کا نزول ہوتا ہے اس لئے اس ارشاد نبوی کے ذریعہ اس عقیدے کو باطل و بے اصل قرار دیا گیا۔
🌹حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : 
لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ.
 کہ بیماری کا(اللہ کے حکم کے بغیر) ایک سے دوسرے کو لگنا، بد شگونی، ہامہ(مقتول کھوپڑی سے اُلو کا نکلنا) اور ماہ صفر( کو منحوس سمجھنا) یہ سب چیزیں بے حقیقت(من گھڑت باتیں) ہیں۔ (📚سُنن ابن ماجہ)

اہل عرب کا ایک غلط خیال یہ بھی تھا کہ اگر مقتول کے خون کا بدلہ نہ لیا جائے تو اس کی کھوپڑی سے ایک اُلّو نکل کر چیختا ہے۔ جب بدلہ لے لیا جائے تو مقتول کی روح کو تسکین ہو جاتی ہے اور اُلو خاموش ہو جاتا ہے۔ حدیث میں اس غلط نظریہ کی بھی تردید کی گئی ہے۔

 ماہ صفر میں مصائب اور نحوست کے نظریہ کی تردید۔
ماہ صفر کے متعلق نحوست اور مصائب کے نزول کا عقیدہ لوگوں کا من گھڑت اور جاہلانہ عقیدہ ہے، جس کی شریعت اور دین اسلام میں کوئی اصل نہیں ہے، احادیث مبارکہ میں اس قسم کے عقائد سے منع کیا گیا ہے، لہذا  ماہ صفر بلکہ کسی چیز کے بارے میں بھی نحوست کا عقیدہ رکھنا جائز نہیں کیونکہ غم وخوشی اور صحت وبیماری وغیرہ سب اللہ تعالی کی مرضی و منشاء اور بندوں کی آزمائش کے طور پر آتے ہیں، اس میں نہ تو کسی چیز کی نحوست کا دخل ہے اور نہ کسی اور چیز کا، بلکہ فاعل حقیقی صرف اللہ تعالی کی ذات گرامی ہے۔
(📚نجم الفتاوی 1/383)

 ماہ صفر کا آخری بدھ۔
ماہ صفر کے آخری بدھ کے بارے میں لوگوں کا یہ عقیدہ کہ اس روز نبی کریم ﷺ مرض سے صحت یاب ہوگئے تھے، اس لئے عید کی طرح خوشیاں مناتے ہیں، چُوری بنا کر تقسیم کرتے ہیں خصوصاً مزدور طبقہ مالکان سے چھٹی مانگتا ہے، مٹھائی کے پیسے طلب کرتا ہے، یہ محض بے اصل اور بدعت ہے، کھانے پینے کی غرض سے لوگوں نے اسکو ایجاد کیا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ صفر کے آخری بدھ کو حضور اکرم ﷺ کے مرض وفات کی ابتداء ہوئی تھی۔
(فتاوی بینات 1/467)

ماہ صفر کی دعا۔
سوشل میڈیا پر ماہ صفر سے متعلق عربی الفاظ میں کچھ مخصوص ﺩﻋﺎئیں شئیر Share ہوتی رہتی ہیں جبکہ اُسکی کوئی بھی حقیقت نہیں اور نہ ہی کسی مُستند روایت سے کوئی مخصوص دعا ثابت ھے۔

ماہ صفر میں شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
کسی بھی مہینہ یا کسی بھی دن کے لئے منحوس ہونا یا خراب کہہ دینا لوگوں کی اپنی مَن گھڑت رائے ہے، کسی بھی مہینہ کو شادی کے لئے یا کسی اور کام کے لئے برا قرار دینا اسلام کی نظر میں پسندیدہ نہیں،خواہ وہ ماہ صفر ھو یا ماہ محرّم الحرام ہو۔ توہّمات اور بُرے من گھڑت خیالات کو کوئی مقام دینا اسلامی تعلیم میں نہیں پایا جاتا ہے، بعض عورتیں  ماہ صفر  کو تیرہ تیزی کا مہینہ کہتی ہیں اور اس مہینہ کی تیرہ تاریخ تک اپنی لڑکیوں کو رخصت کرنے کو بھی برا اور منحوس سمجھ کربھیجتی نہیں ہیں، یہ سب بے اصل ہے اسی طرح بعض مرد لوگ اس مہینہ کے آخری بدھ کو اپنا کام اور اپنے کارخانے بھی بند رکھتے ہیں، اس دن نہاتے، دھوتے، نئے کپڑے پہنتے ہیں، کھانے بناتے کھاتے کھلاتے ہیں اور ایسا کرنے کو اپنی مصیبتیں دور ہونے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، یہ سب بے اصل ہیں۔ اسلامی تاریخ پر نظر ڈال کر واضح طور پر یہی معلوم ہوتا ہے کہ نحوست دنوں میں نہیں ہوتی بلکہ انسان کے اپنے اعمال میں ہوتی ہے، اور یہ مہینہ تو صفر المظفر و صفر الخیر ہے،یعنی کامیابی اور خیر کا مھینہ، اس مہینہ کو خالی کا مہینہ کہنا درست نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت اس مہینہ میں فرمائی، جس کے بعد فتوحات و غزوات کا سلسلہ شروع ہو کر اسلامی ترقیاں سامنے آتی رہیں، اسی طرح :
2 صفر کو حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا کا نکاح ہوا۔
4 صفر کو حضرت زینب رضی ﷲ عنہا کا نکاح آپ ﷺ سے ہوا۔
 8 صفر کو حضرت عمرو بن عاص رضی ﷲ عنہ کا قبول اسلام ہوا۔
9 صفر کو حضرت عثمان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام ہوا جو کہ جلیل القدر صحابی تھے اور خانہ کعبہ کی چابیاں اور حفاظت کی ذمہ داری انہیں کے پاس تھی۔
8 صفر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام ہوا۔
27 صفر حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا بحیثیت امیر لشکر تقرر ہوا۔
صرف اسی قدر تاریخی واقعات کے ہوتے ہوئے بھی یہ مہینہ منحوس مہینہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اسلامی تاریخ کے اوراق بار بار پڑھے جائیں تو مزید معلومات سامنے آجائیں گی، بہرحال یہ مہینہ صفر المظفر اور صفر الخیر یعنی کامیابیوں کا مہینہ اور خیر کا مھینہ ھے۔
🔻 آخری گذارش یہ ہے کہ جو کام عام دنوں میں جائز ہے شرعی لحاظ سے اس پر کوئی بھی ممانعت نہیں تو وہ تمام کام اس مھینہ میں بھی جائز ہیں کوئی شرعی پابندی اس پر نہیں یہی قاعدہ آپ ماہ صفر اور ماہ محرّم الحرام کے بارے میں سمجھ لیں۔

واللہ اعلم بالصواب 

Halotherapy, Defintion, advantages and disadvantages - Medical research on Halotheropy

Halotherapy, also known as salt therapy, is an alternative treatment that involves inhaling micronized dry salt in a controlled environment,...